حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لکھنؤ/ معروف قومی شخصیت سید اسلم زیدی کی والدہ مرحومہ سیدہ اصغری فاطمہ کے ایصالِ ثواب کے لئے مجلسِ سوم شاہی جامع مسجد، تحسین گنج میں بعد نمازِ مغربین منعقد ہوئی۔
مجلس کا آغاز تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوا، جس کے بعد شعرائے اہلِ بیتؑ نے منظوم نذرانۂ عقیدت پیش کیا۔ آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی دام ظلہ کے نمائندہ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید اشرف علی الغروی نے مجلس سے خطاب کیا۔
مولانا سید اشرف علی الغروی نے سورۂ قیامت کی آیات 20 اور 21 کو موضوعِ سخن بناتے ہوئے دنیا کی محبت اور آخرت سے غفلت کے نتائج پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام نے انسان کی زندگی کے آغاز سے اختتام تک عقیدۂ توحید، نبوت اور ولایت و امامت کی تعلیم کا اہتمام کیا ہے۔ ولادت کے وقت اذان و اقامت اور وفات کے وقت تلقین کے ذریعے انسان کو ان بنیادی عقائد کی یاد دہانی کرائی جاتی ہے، جبکہ مجالسِ عزا بھی دینی تعلیم و تربیت کا اہم ذریعہ ہیں۔
انہوں نے روایات کی روشنی میں تجارت کی اہمیت اور اس کی برکتوں پر گفتگو کرتے ہوئے ملازمت کے بعض نقصانات کی جانب بھی توجہ دلائی۔

ایصالِ ثواب کی اہمیت بیان کرتے ہوئے مولانا سید اشرف علی الغروی نے کہا کہ ہمیں اپنے مرحومین کو فراموش نہیں کرنا چاہیے اور ان کے لئے زیادہ سے زیادہ نیک اعمال انجام دینے چاہئیں۔ ایصالِ ثواب صرف مخصوص اعمال تک محدود نہیں، بلکہ کسی غریب کی مدد، ضرورت مند بچے کی تعلیم کا انتظام اور بے سہارا افراد کی دست گیری بھی اس کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ کسی ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنا بہترین ایصالِ ثواب ہے۔
مجلس کے اختتام پر مولانا سید اشرف علی الغروی نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے مصائب بیان کئے۔
مجلس میں دینی، علمی، تعلیمی، سیاسی، سماجی اور قومی شخصیات سمیت بڑی تعداد میں مؤمنین نے شرکت کی۔










آپ کا تبصرہ